ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سی اے اے جائز؛حکومت کا عدالت میں دعویٰ ۔شہریت قانون سے کسی بھی بنیادی حق کی خلاف ورزی نہیں ہوتی: مرکز

سی اے اے جائز؛حکومت کا عدالت میں دعویٰ ۔شہریت قانون سے کسی بھی بنیادی حق کی خلاف ورزی نہیں ہوتی: مرکز

Wed, 18 Mar 2020 09:54:57    S.O. News Service

نئی دہلی،18؍مارچ (ایس او نیوز؍ایجنسی) مرکز نے منگل کو سپریم کورٹ میں دعویٰ کیا کہ شہریت ترمیم قانون، 2019 آئین میں فراہم کردہ کسی بھی بنیادی حق کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔مرکز نے اس قانون کی قانونی حیثیت کو چیلنج دینے والی درخواستوں پراپنے 129 صفحات کے جواب میں شہریت ترمیم قانون کو جائز قرار دیا اور کہا کہ اس کی طرف سے کسی بھی قسم کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہونے کا سوال ہی نہیں ہے۔

حلف نامے میں مرکز نے کہا ہے کہ یہ قانون ایگزیکٹو کو کسی بھی قسم کے من مانے اورغیرآئینی حقوق فراہم نہیں کرتا ہے کیونکہ پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش میں ظلم و ستم کا شکار ہوئے اقلیتوں کو اس قانون کے تحت ہی شہریت فراہم کی جائے گی۔مرکزکی جانب سے وزارت داخلہ میں ڈائریکٹر بی سی جوشی نے یہ حلف نامہ داخل کیا ہے۔

عدالت عظمیٰ نے گزشتہ سال 18 دسمبر کو شہریت ترمیم قانون کی آئینی موزونیت کی جانچ کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن اس کے نفاذ پر روک لگانے سے انکار کر دیا تھا۔نظر ثانی شہریت قانون میں پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش میں مبینہ طور پر ہراساں و شکار ہوئے ہندو، سکھ، بدھ مت، عیسائی، جین اور پارسی اقلیتی برادری کے ان اراکین کو ہندوستان کی شہریت دینے کا قانون ہے جو 31 دسمبر، 2014 تک یہاں آ گئے تھے۔

شہریت ترمیم قانون کے خلاف کیرلا اور راجستھان حکومت نے آئین کے آرٹیکل 131 کا سہارا لیتے ہوئے کیس دائر کیا ہے جبکہ انڈین یونین مسلم لیگ، ایم سی پی، ترنمول کانگریس کی ایم پی مہوا موترا، کانگریس کے جے رام رمیش، ڈی ایم کے،اے آئی ایم، سی پی آئی اور بہت سی دوسری تنظیموں نے 160 سے زائد درخواستیں عدالت میں دائر کی ہیں۔


Share: